کام کرنے والی خواتین کا ذہنی دباؤ کم کرنے کا حل

شام کے چائے کے کپ سے اٹھتی ہوئی بھاپ اور ذہن میں گھومتے ہوئے اگلے دن کے کام... ہم میں سے ہر کام کرنے والی خاتون اس احساس سے اچھی طرح واقف ہے۔ جب ہم دفتر کا دباؤ اور گھریلو ذمہ داریاں ایک ساتھ سنبھالنے کی کوشش کرتی ہیں، تو اکثر ایسا لگتا ہے جیسے ہمارے پاس اپنے لیے سانس لینے کا وقت بھی نہیں بچا۔ میں کوئی ڈاکٹر یا ماہر نفسیات نہیں ہوں، بس آپ جیسی ایک عام عورت ہوں جو روزانہ دفتر اور گھر کے کاموں کے درمیان توازن تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ آج ہم مل کر بات کریں گے کہ اس روزمرہ کی تھکن اور ذہنی دباؤ کو کیسے کم کیا جائے، وہ بھی بغیر کسی اضافی خرچ یا مشکل روٹین کے۔

روزمرہ کی تھکن اور ہمارا ذہن

جب ہم صبح اٹھتی ہیں، تو ہمارے ذہن میں پہلے سے ہی ایک لمبی فہرست تیار ہوتی ہے۔ دفتر کا کام، گھر کی صفائی، کھانے کی تیاری اور سماجی زندگی۔ ان سب کو پورا کرتے کرتے ہم خود کو بھول جاتی ہیں۔ کام کی جگہ پر کام کا بوجھ اور گھر پہنچ کر گھریلو زندگی کی فکر، یہ دونوں مل کر ہمیں ذہنی تھکن کا شکار کر دیتے ہیں۔ یہ پریشانی آہستہ آہستہ ہماری ذہنی صحت اور خواتین کی صحت پر اثر انداز ہونے لگتی ہے۔ لیکن یقین مانیں، اس دباؤ کا انتظام کرنا اتنا بھی مشکل نہیں ہے جتنا ہم سوچتی ہیں۔

کام کرنے والی خواتین کا ذہنی دباؤ کم کرنے کا حل

ذہنی سکون کے لیے چند آسان طریقے

ہمیں اپنی زندگی کو بدلنے کے لیے کسی بڑے انقلاب کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ چھوٹے چھوٹے آسان طریقے ہی ہماری زندگی میں بڑا ذہنی توازن لا سکتے ہیں۔ یہاں کچھ ایسی سادہ باتیں ہیں جنہیں میں نے خود اپنی زندگی میں آزمایا ہے:

1. شام کا وقت اور پانچ منٹ کا آرام

جب آپ دفتر سے گھر واپس آئیں، تو فوراً کچن میں جانے یا گھر کے کاموں میں لگنے کے بجائے صرف پانچ منٹ کے لیے خاموشی سے بیٹھیں۔ اپنے فون کو ایک طرف رکھ دیں، آنکھیں بند کریں اور گہرے سانس لیں۔ یہ آرام کے لمحات آپ کے ذہن کو ایک کام سے دوسرے کام میں منتقل ہونے کے لیے تیار کرتے ہیں اور روزمرہ کے مسائل سے نمٹنے کی طاقت دیتے ہیں۔

2. ہفتہ وار منصوبہ اور وقت کی بچت

اتوار کے دن صرف آدھا گھنٹہ نکال کر پورے ہفتے کے کپڑوں اور کھانے کا ہفتہ وار منصوبہ بنا لیں۔ جب آپ کو پہلے سے معلوم ہوگا کہ اگلے دن کیا پکانا ہے یا کیا پہننا ہے، تو صبح کا آدھا دباؤ خود بخود ختم ہو جائے گا۔ یہ وقت کا انتظام آپ کو صبح کی افراتفری سے بچاتا ہے۔

3. پرسکون نیند کے لیے ایک چھوٹا سا اصول

ذہنی دباؤ کی سب سے بڑی وجہ نیند کی کمی ہے۔ رات کو سونے سے کم از کم آدھا گھنٹہ پہلے موبائل فون کا استعمال بند کر دیں۔ اس وقت میں کوئی ہلکی پھلکی کتاب پڑھیں یا صرف اپنے دن کے اچھے لمحوں کے بارے میں سوچیں۔ ایک پرسکون نیند آپ کو اگلے دن کے لیے نئی توانائی دیتی ہے۔

خود کی دیکھ بھال کوئی عیاشی نہیں

اکثر خواتین یہ سوچتی ہیں کہ اپنے لیے وقت نکالنا ایک عیاشی ہے یا وہ گھر والوں کے ساتھ زیادتی کر رہی ہیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ جب تک آپ خود اندر سے پرسکون نہیں ہوں گی، آپ اپنے اردگرد کے لوگوں کا خیال کیسے رکھ سکیں گی؟ خود کی دیکھ بھال کا مطلب مہنگے پارلر جانا نہیں ہے، بلکہ چائے کا ایک کپ سکون سے پینا یا اپنی پسند کا کوئی گانا سننا بھی خود کی دیکھ بھال ہے۔

آج سے ہی اپنے لیے ایک چھوٹا سا قدم اٹھائیں۔ اگر آپ سب کچھ مکمل طور پر نہیں کر پاتیں، تو کوئی بات نہیں۔ آہستہ آہستہ آگے بڑھنا بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔ آپ پہلے ہی بہت اچھا کام کر رہی ہیں، اپنے آپ پر فخر کرنا سیکھیں۔